Dr. Syed Ikram

شیاٹکا یا عرق النسا کا درد

ڈاکٹر سید اکرام

درد رگ رگ میں اتر جائے تو پھر نیند کہاں

بے اثر آہ اگر جائے تو پھر نیند کہاں
زندگی تیرے ستائے ہوئے ہر ایک دل کا
جب سکوں چین ہی مر جائے تو پھر نیند کہاں

دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کا محاورہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے لیکن اس کے پس منظر کو کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ویسے تو ہمارے جسم میں، سر میں، اعضا میں، پٹھوں میں، اعصاب میں درد اکثر ہوا کرتا ہے لیکن اگر یہ درد ہماری رگوں میں آ جائے تو پھر قیامت بن جاتا ہے۔ کیونکہ پھر یہ محض رگ نہیں رہتی بلکہ دکھتی رگ بن جاتی ہے، ایسی کہ کسی کا ہاتھ تک برداشت نہیں ہوتا۔ شیاٹکا یا عرق النسا بھی ایسا ہی ایک درد ہے جو ہوتا تو ایک رگ میں ہے لیکن پورے بدن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

درد اکثر دلچسپ نہیں ہوتے لیکن اس درد کا کم از کم نام بہت دلچسپ ہے۔ اکثر لوگ اسے عرق النسا کا درد کہتے ہیں۔ اور نسا چونکہ عربی میں خواتین کو کہتے ہیں اس لئے اسے لنگڑی کا درد بھی کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اس کا تلفظ نسا نہیں بلکہ نون پر زبر کے ساتھ ”نسا“ ہے اور نسا کہتے ہیں ایک رگ کو ایک عصب کو جسے انگریزی میں شیاٹک نرو کہا جاتا ہے۔ اور یہ ہمارے جسم کی سب سے چوڑی اور لمبی نرو ہوتی ہے اور اس کا کام گھٹنوں اور ٹانگوں کے نچلے حصے، پنڈلی اور ٹخنے کے مسلز کو حرکت کے لئے کمانڈ دینا ہوتا ہے جبکہ یہ ٹانگوں اور پیروں میں سنسنی یا احساسات بھی سپلائی کرتی ہے۔ اگر اس نرو کو کسی قسم کے مسئلے کا سامنا ہو تو وہ اپنا کام نہیں کر پاتی جس کے نتیجے میں عرق النسا یا شیاٹکا کی علامات ابھرتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر سو میں سے چالیس افراد کبھی نہ کبھی ضرور شیاٹکا کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیاٹکا کا درد کیوں ہوتا ہے؟ اس کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں؟

شیاٹکا کی عام وجوہات میں ہماری ریڑھ کی ہڈی کے مسائل سر فہرست ہیں جیسے عمر کے ساتھ ہماری ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان موجود ڈسک کا کمزور اور خستہ ہوجانا جسے ڈسک ڈی جنریشن کہتے ہیں یا ڈسک کا اپنی جگہ چھوڑ دینا جسے ڈسک ہرنیا کہتے ہیں یا پھر ریڑھی کی ہڈی کا تنگ یا پتلا ہو جانا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ پھر بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ موٹاپا اور ذیابیطس بھی اس کا رسک بڑھاتے ہیں۔ یہ بیماری مردوں اور خواتین دونوں کو ہو سکتی ہے لیکن خواتین میں اس کا رسک زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ بیماری تیس سے پچاس سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہے۔ اور پھر اگر آپ کی جاب اس طرح کی ہے جس میں آپ کو اکثر بیٹھا رہنا پڑتا ہے تو یہ عادت بھی شیاٹکا کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح سردی کا موسم بھی اس درد کو بڑھا سکتا ہے۔

کون کون سے لوگ شیاٹکا کے زیادہ رسک پر ہوتے ہیں؟

شیاٹکا مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زیادہ ذکی الحس (حساس) ہوتی ہیں، اور دماغی تھکاوٹ، غم و غصہ سے بظاہر زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ بعض حیاتیات (وٹامنز) کی کمی بھی اس در کو بڑھا سکتی ہے جن میں وٹامن بی بارہ اور میگنیشیم سرفہرست ہیں، مردوں میں بھی خشک مزاج، چڑچڑا رہنے والے اشخاص اس درد میں اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مرد حضرات کو یہ درد ہو تو خون کی کمی، وٹامن ڈی اور وٹامن سی کی کمی کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ کچھ افراد ایسے بھی دیکھنے میں آئے جو نیند آور ادویات کا بہ کثرت استعمال کرتے تھے، مگر دن بھر رقیق غذا مثلاً دودھ، یخنی وغیرہ استعمال نہیں کرتے تھے، انہیں بھی قبض اور اس درد کی شکایت ہوئی۔

شیاٹکا کی علامات کیا ہوتی ہیں؟

اس کی سب سے بڑی علامت ہے درد، ایسا درد جو کمر سے اٹھتا ہے اور دائیں یا بائیں کولہے اور ران سے ہوتا ہوا ٹانگ اور ٹخنے تک چلا جاتا ہے۔ اس کا مریض چار پائی کے ساتھ لگ جاتا ہے اور ہلنے جلنے کے قابل نہیں رہتا۔ ذرا سا بدن ادھر ادھر ہو جائے تو غضب کا درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ ٹانگ کی جلد میں سنسناہٹ اور سن ہونے کی کیفیت بھی ہوتی ہے، اگر بروقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ درد چار تا آٹھ ہفتے رہتا ہے اور خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

سو جس قدر وقت گزرتا رہتا ہے یہ درد نیچے کے جانب بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ درد پیروں کی انگلیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے کمر کے درد سے فرق نہیں کر پاتے۔ لیکن یاد رکھیئے کہ کمر کا درد اکثر کمر کے درمیانی حصے میں ہوتا ہے جبکہ ’شیاٹکا‘ کا درد کمر کے نچلے حصے کے علاوہ کولہے سے گزرتا ہے اور ایک جانب کی ٹانگ ہلنے سے قاصر رہ جاتی ہے، جلد پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ چیونٹی چل رہی ہے، ٹانگ اور جلد سن و بے حس ہوجاتی ہیں۔ سو یاد رکھیئے شیاٹکا کے درد کو دیگر اقسام کے درد سے الگ پہچاننے کی سب سے عام علامت ہے کمر کے نچلے حصے میں بے چینی یا تکلیف جو کہ کولہوں سے لے کر نیچے رانوں اور پنڈلی تک جاتی ہے جس کے ساتھ جلن جیسی تکلیف بھی ہوتی ہے جو کہ زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر اس مرض کی تشخیص کیسے کرتا ہے۔ اس کے لئے کسی خاص ٹیسٹ، ایکسرے یا الٹرا ساؤنڈ کا کروانا لازمی نہیں ہوتا اور عموماً ً ڈاکٹر آپ کی کیس ہسٹری اور علامات کی بنیاد پر ہی اس کا اندازہ لگا کر علاج تجویز کرتے ہیں۔

اب آ جاتے ہیں علاج کی جانب!

اچھی خبر یہ ہے کہ دو سے چار ہفتے کے بعد یہ درد خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن ظاہر ہے مریض اتنا عرصہ مسلسل درد برداشت نہیں کر سکتا سو اسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں اور پین کلرز لینی ہوتی ہیں۔ مرہم) یا جل مثلاً کیٹوپروفن، آئبوپروفن، آیوڈین، ڈکلوفینک سوڈیم جل کی مالش بھی اکثر مفید ثابت ہوتی ہے۔ کھانے کے لیے دافع ورم ادویات مثلاً ڈکلوفینک سوڈیم، ڈکلوفینک پوٹاشیم، انڈو میتھاسین وغیرہ پانی کے ساتھ لے سکتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ مساج یا فزیو تھراپی بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر درد شروع ہونے کے پہلے دو دن تک برف سے متاثرہ حصے پر ٹکور کریں اور دو دن کے بعد گرمی سے سنکائی کریں، اس سے اکثر فائدہ دیکھا گیا ہے۔ مسلسل اور مکمل بیڈ ریسٹ یا آرام شیاٹکا کو اور بڑھا دیتا ہے سو جہاں تک ہو سکے چلتے پھرتے رہنا چاہیے۔

’شیاٹک پین‘ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

غذا کا وقت پر استعمال کریں۔ کوشش کریں کہ گیس کم بنے اور قبض نہ ہو۔ سبزی کا استعمال مناسب مصالحوں مثلاً سیاہ مرچ، ادرک، لہسن، ہلدی کے ساتھ کریں۔ غذا میں یخنی، بکرے کا گوشت یا بڑے پائے ضرور استعمال کریں۔ ہفتے میں ایک بار ادرک کی چائے ضرور پئیں تاکہ خون گاڑھا نہ ہو۔ وٹامنز ڈی، سی، اے، کے اور بی کمپلیکس کا خیال کریں۔ روزانہ ورزش کریں۔ اگر آپ کا وزن نارمل سے زیادہ ہے تب آپ کو اسے کم کرنا ہو گا۔ بیٹھنے کی وضع کا خیال رکھیں، جھک کر زیادہ دیر نہ بیٹھیں۔ اپنی بلڈ شوگر کنٹرول رکھیں۔ زیادہ وزن اٹھانے سے گریز کریں۔ دماغی تھکاوٹ زیادہ ہو تو تفریح کریں، زیادہ دیر بیٹھنے کی عادت نہ بنائیں۔ سوتے ہوئے ہڈیوں میں ٹھنڈک نہ لگنے دیں۔ سونے سے پہلے ٹھنڈی غذا نہ لیں۔