Dr. Syed Ikram

ہم موٹے کیوں ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر سید اکرام

غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ۔

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔
ایک عمر چاہیے کمرے کو کمر ہونے تک

بے شک، جب ہمارا جسم۔ جسم سے زیادہ سیب یا ناشپاتی لگنے لگے اور ہماری کمر پھیل کر کمرہ بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہماری شخصیت کو بہت سے بیرونی بلکہ اندرونی خطرات بھی لاحق ہو چکے ہیں۔ اور ہم موٹاپے جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ موٹاپا ایک مکمل بیماری کا نام ہے۔ بلکہ ایک ایسی بیماری ہے جو دوسری کئی بیماریوں کی جڑ بھی ہے اور اسی لئے اسے ام الامراض بھی کہا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں نہ کہ تندرستی ہزار نعمت ہے، اگر انسان صحت مند اور توانا ہو تو وہ ہر مشکل سے مشکل کام کو بھی کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے اور اسے مکمل بھی کر لیتا ہے بشرطیکہ وہ صحت مند ہو۔ موٹاپا محض آپ کی خوبصورتی کا دشمن ہی نہیں بلکہ آپ کی صحت کا دشمن بھی ہے۔ یہ آپ کی جان بھی لے سکتا ہے۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کم از کم پینسٹھ کروڑ لوگ موٹاپے کا شکار ہیں اور پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم بیس فیصد آبادی کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے جبکہ پانچ فیصد لوگوں میں موٹاپا خطرناک بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سمیت ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے مرنے کا ایک سبب موٹاپا بھی ہے۔

موٹاپا ہوتا کیوں ہے؟

وہ جو شعر ہے ناں کہ ’’رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہو گئے، پہلے جاں، پھر جان جاں پھر جان جاناں ہو گئے۔‘‘ بالکل اسی طرح موٹاپا عام طور پر آہستہ آہستہ، مہینوں میں سالوں میں، ہمارے بدن، ہمارے جسم، ہمارے وجود اور پھر ہماری پوری شخصیت پر غالب آ جاتا ہے۔ موٹاپا زیادہ تر ہمارے طرز زندگی، اور خوراک میں بداحتیاطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں موٹاپے کا سبب کچھ دوسری اندرونی بیماریاں ہو سکتی ہیں جیسے تھائی رائیڈ گلینڈ کا کم کام کرنا، یا کچھ دواؤں کے مضر اثرات بھی شامل ہیں۔

لیکن عام طور پر وزن کیسے بڑھتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم جتنی کیلوریز (حرارے ) ہمیں چاہئیں اس سے زیادہ کیلوریز کھانے لگتے ہیں تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔ لیکن ہم ضرورت سے زیادہ کھانا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟ کیوں کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک چاکلیٹ یا کیک جیسی بہت زیادہ کیلوریز والی چیزیں کھانے کی شدید طلب محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد ہمیں پچھتاوا ہو گا۔ سو موٹاپا زیادہ تر، زیادہ کھانے کے نتیجے کے عمل میں آتا ہے۔

جو کھانا ہم کھاتے ہیں اگر اس کی توانائی کی مقدار روزانہ استعمال ہونے والی توانائی سے زیادہ ہو تو یہ فالتو مقدار ہمارے جسم میں چکنائی کی شکل میں جمع ہوتی رہتی ہے اور اگر ہمارا طرز زندگی سست ہو، ہمارے روزمرہ معمولات میں اگر ورزش اور حرکت کی برکت شامل نہ ہو تو یہ دونوں باتیں وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اب بات ہو جائے ان بری عادتوں کی جن کی وجہ سے انسان زیادہ کھاتا ہے یا ورزش نہیں کرتا۔

بسیار خوری (پیٹو پن) : اکثر و بیشترخوب پیٹ بھر کر کھانے کی عادت موٹاپے کی اصل اور بنیادی وجہ ہوا کرتی ہے۔ بچوں کو والدین کی کم علمی اور سستی سے بچپن میں یہ عادت پڑ جائے تو چھٹکارا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچپن کے علاوہ جوانی اور بڑھاپے میں بھی اس خطرناک عادت میں مبتلا ہونے کا احتمال رہتا ہے لہٰذا شیرخواری سے بڑھاپے تک ہمیشہ اس پہلو سے محتاط رہنا چاہیے۔ صحت مند بچوں کی پیدائش کے لئے عورت مرد کا موٹاپے سے بچنا بھی ضروری ہے۔ بسیار خوری کی ایک قسم جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ پیٹ ٹھونس ٹھونس کر بھرنا ہے جبکہ دوسری قسم تقریباً ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہنے کی عادت ہے۔ جسے ”ہوکا“ ہو جانا بھی کہتے ہیں۔ اس میں باقاعدہ کھانے کے علاوہ گاہے بگاہے کافی، چائے، بسکٹ، کیک، چپس، آئس کریم، سوڈا، جوس وغیرہ سے شوق فرماتے رہنا یا ٹافیاں، مٹھائیاں وغیرہ کھاتے رہنا شامل ہے۔

مصروفیت کی بنا پر موٹاپا پیدا کرنے والی غذا کھانا (جنک فوڈ): بعض میاں بیوی دونوں ایسی ملازمتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس غذا خریدنے اور کھانا تیار کرنے کا وقت بہت کم بچتا ہے۔ اسی طرح بعض غیر شادی شدہ لوگ ہفتے میں ساتوں دن روزانہ بارہ گھنٹے یا اس سے بھی زائد کام کرتے ہیں، ایسے لوگ عموماً ملازمت پہ جاتے آتے یا دوران ملازمت کھانے کے لئے فاسٹ فوڈ سنٹر وغیرہ سے برگر، پیزا اور سوڈا وغیرہ خرید کر گزارہ کر لیتے ہیں۔ یہ غذائیں غذائیت میں کم تر لیکن کیلوریز میں بدتر ہوتی ہیں۔ یعنی مقدار بہت زیادہ مگر معیاربہت کم۔

کھانے پینے میں بے قاعدگی: کئی لوگ رات دیر سے سوتے اور صبح دیر سے جاگتے ہیں۔ ان کا صبح جلد نہ اٹھ سکنا نہ صرف انہیں صبح کی سیر اور ورزش سے محروم رکھتا ہے بلکہ ان کے کھانے کے اوقات بھی بے قاعدہ رہتے ہیں۔ ایک انسان اگر رات گئے تک ٹی وی، انٹرنیٹ، دوستوں کے ساتھ تاش کھیلنے یا گپ شپ کی وجہ سے جاگتا رہے تو اس دوران گاہے بگاہے کھانے پینے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا جو آ بیل مجھے مار کے مصداق موٹاپے کو دعوت دینے والی حرکت ہو گی۔

کھیل کود اور ورزش سے دور رہنا: کئی لوگ اپنی ملازمت اور دیگر ضروری امور تو احسن طور پہ انجام دے لیتے ہیں مگر جو باقی وقت بچے اسے ٹی وی، انٹر نیٹ، تاش کھیلنے اور دیگر ایسی سرگرمیوں میں گزار دیتے ہیں۔ بعض لوگ تو ان دیگرجملہ امور میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ اپنی روزانہ کی سات سے آٹھ گھنٹے کی معمول کی نیند بھی پوری نہیں کر پاتے، ایسے لوگ بوجہ کم نیند لینے اور جسمانی ورزش نہ کرنے کے، موٹاپے کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔

مینٹل ٹینشن یا ذہنی دباؤ: ماہرین کو اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ ذہنی دباؤ موٹاپے کی ایک اہم وجہ ہوتا ہے۔ زیادہ ذہنی دباؤ، جیسے ڈپریشن یا تشویش کی حالت میں ہماری نیند خراب ہوتی ہے ، اس وجہ سے ہمیں زیادہ بھوک لگتی ہے اور کچھ کھا کر ہی آرام ملتا ہے اور خون میں شوگر کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے۔ بڑے اور بچے عموماً مشکل صورت حال میں سکون و اطمینان حاصل کرنے کے لئے غذا کا سہارا لیتے ہیں۔ ناخوش اور ناراض انسان بالعموم خوش اور مطمئن انسان کے مقابلے میں زیادہ غذا کھاتا ہے۔

اسی طرح پریشانی کی کیفیت میں بار بار کافی، چائے، بسکٹ، آئس کریم، ٹافیاں، چپس وغیرہ کھانا بھی بسیار خوری پہ منتج ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں غذا زیادہ کھائی جاتی ہے مگر جسمانی مشقت اور ورزش نہیں کی جاتی اس وجہ سے موٹاپے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے احساس کمتری یا مایوسی وغیرہ کے احساسات میں گھرے رہنا بھی بالآخر موٹاپے پہ منتج ہوتا ہے۔

ایک تحقیق میں نو سے دس سال کے پندرہ سو بیس بچوں کا چار سال تک مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ احساس کمتری والے انیس فیصد موٹے بچے غمگین، اڑتالیس فیصد بوریت کا شکار اور اکیس فیصد نروس رہتے ہیں جبکہ نارمل بچوں میں یہ شرح نہایت کم تھی۔

ناشتہ نہ کرنا: جی ہاں، اس بھی سے وزن بڑھتا ہے۔ ناشتہ لازمی کرنا چاہیے، چاہے کم کھائیں لیکن کھائیں ضرور۔ اس طرح رات کا کھانا بھی بہت ضروری ہے۔ اگر نہ کھایا جائے تو انسان میں نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں اور نیند بھی غائب ہو جاتی ہے۔ دوپہر کے کھانے کے بجائے ہم پھل کھا سکتے ہیں یا سلاد کھا سکتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا چھوڑنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ناشتہ چھوڑنے سے اور اگر جلدی نہ کیا جائے تو جسم پھولتا ہے۔

ایک صحت مند انسان خواہ اس کا وزن کتنا ہی کیوں نہ ہو، اسے روزانہ کم و بیش دو ہزار کیلوریز درکار ہیں۔ اب اس میں کمی بیشی اس طرح ہوتی ہے کہ ایک انسان جسے معلوم ہے کہ اسے دو ہزار حرارے چاہیے لیکن وہ ایک ایسا کام کرتا ہے کہ جس میں اسے سارا دن آفس میں بیٹھنا ہے، یا ایک ایسا کام ہے کہ جس میں محنت و مشقت زیادہ نہیں ہے، دوسری جانب ایک مزدور ہے جو بوریاں اٹھاتا ہے، سڑکوں پر کدال چلاتا ہے، کھیتوں میں ہل چلاتا ہے اسے کیلوریز کی ضرورت زیادہ ہو گی بہ نسبت پہلے شخص کے۔

لیکن اگر وہ کھا رہا ہے تو خرچ بھی کر رہا ہے۔ اور نتیجتاً ً اس کا وزن نہیں بڑھے گا۔ لیکن ہماری اکثریت خاص طور پر خواتین بہت زیادہ محنت و مشقت کا کام تو نہیں کرتیں، گھر میں ایک دو گھنٹے کا کام کیا اور اس کے بعد انہیں یقیناً آرام کا وقت مل جاتا ہے یا ایسا کام کرنا پڑتا ہے جس میں محنت مشقت نہیں ہے۔

محنت مشقت کی نشانی کیا ہے؟ اس کی نشانی یہ ہے کہ جسم سے پسینہ خارج ہونے لگے اور نبض کی رفتار تیز ہو جائے، سانس کی رفتار تیز ہو جائے یہ وہ صورت ہے جس میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ توانائی یا زیادہ کیلوریز خرچ ہو رہی ہیں اور ورزش بھی یہ کام کرتی ہے۔