Dr. Syed Ikram

خون کی کمی : گھر بیٹھے علاج اور بچائو

ڈاکٹر سید اکرام

گزشتہ کالم میں ہم نے بات کی تھی جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا کی اقسام، وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج کے بارے

میں اور اب باری ہے ہیموگلوبن یعنی خون کی کمی پورا کرنے کے طریقوں کی۔ کون سی غذائیں کھائی جائیں کہ جن سے یا تو خون کی کمی پیدا ہی نہ ہو یا اگر انیمیا ہو بھی جائے تو یہ جلدی ٹھیک ہو جائے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی انیمیا کا شکار ہو جائے تو اس کو دور کرنے کا سب سے بہترین اور سستا طریقہ غذا کے ذریعے اس کمی کو دور کرنا ہے۔ یاد رکھئے، ہم جانتے ہیں کہ انیمیا یا خون کی کمی کی سب سے بڑی وجہ جسم میں آئرن یا فولاد کی کمی ہونا ہے۔ سو ہمیں وہ چیزیں کھانی ہیں اور پینی ہیں جن میں آٓئرن زیادہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تین وٹامن بھی زیادہ ہوں، جی ہاں۔ کیونکہ یہ تین وٹامنز بھی جسم میں آئرن کے جذب ہونے کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں۔

اور یہ وٹامنز ہیں۔ وٹامن بی بارہ، وٹامن سی، اور فولک ایسڈ جیسے وٹامن بی نائن یا فولیٹ بھی کہتے ہیں۔
سرخ گوشت: اس میں سب سے پہلی جو غذا ہے وہ ہے لال گوشت۔ خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گائے کا گوشت

انتہائی مفید ہے اس گوشت میں آئرن بھر پور مقدار میں موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی نو اور وٹامن بی بارہ بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے آپ گائے کا گوشت نہ کھانا چاہیں تو بکرے یا چکن کا گوشت بھی لے سکتے ہیں۔

کلیجی: پھر ہے کلیجی کا استعمال۔ جی ہاں کلیجی کھانا بھی جسم میں خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہے کیونکہ کلیجی ایک بھر پور غذا ہے اور اس میں کافی زیادہ مقدار میں آئرن، وٹامنز اور منرلز پائے جاتے ہیں۔ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ کلیجی کا استعمال کچھ ہی ہفتوں میں خون کی کمی دور کرنے میں مدد دے گا۔

پالک، چقندر اور گاجر:: سبزیوں میں پالک بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہے۔ خون کی کمی کا شکار لوگ پالک ابال کر استعمال کریں۔ اسی طرح چقندر کا استعمال بھی بہت مفید ہے کیونکہ چقندر میں آئرن کے علاوہ وٹامن بی بھی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے اسی لیے گھر پر اس کا جوس یا عرق نکال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں یا اس کی سلاد بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گاجر کا استعمال بھی انیمیا دور کرنے میں بہت مددگار ہے۔ آپ اس کو ابال کر، یا پھر سلاد کے طور پر یا پھر اس کا جوس نکال کر بھی روزانہ استعمال کر سکتے ہیں۔

کشمش: پھر آ جائیے کشمش کی طرف۔ کشمش بھی آئرن سے بھر پور ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ جسم میں کمزوری دور کرتی ہے چونکہ یہ کمزوری خون کی کمی کی وجہ سے آتی ہے اسی لیے کشمش کے استعمال سے نہ صرف جسم میں خون کی کمی پوری ہوتی ہے بلکہ توانائی بھی آتی ہے۔ کشمش کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے بیس گرام کشمش لے کر ان کو پانی سے نتھار کر ساری رات بھگو دیں صبح اٹھ کر وہ پانی پی لیں جس میں کشمش بھگوئی تھی۔ پھر کشمش بھی کھا لی جائے تو یہ خون کی کمی پوری کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔ بالکل اسی طرح مونگ پھلی اور مونگ پھلی کا مکھن جسے پی نٹ بٹر بھی کہتے ہیں، یہ بھی آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔

ڈیری: ڈیری پروڈکٹس بھی انیمیا کے لیے بہت مفید ہیں اس میں دہی دودھ مکھن وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح انڈے بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہیں ان میں وہ تمام وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں جو جسم کو دستیاب ہوتے ہیں۔ وٹامن سی کے علاوہ انڈوں میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ آئرن بھی انڈوں میں بھر پور مقدار میں ہوتا ہے اس کے علاوہ وٹامن بی اور بی بارہ بھی اچھی خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں اس لیے خون کی کمی کی صورت میں ناشتے میں ابلے ہوئے انڈوں کا استعمال بہت مفید ہے۔

مچھلی: مچھلی بھی غذائیت سے بھر پور غذا ہے۔ اس میں آئرن اور وٹامن بی بارہ بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مچھلی بہترین غذا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ کوکنگ آئل میں سویا بین آئل بہترین ہے کیونکہ سویا بین آئل میں بھی آئرن پایا جاتا ہے۔

لوبیا اور دالیں : لوبیا اور دالیں بھی خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہیں کیونکہ ان میں وہ تمام اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی کمی پوری کرنے کے لیے جسم کو دستیاب ہوتے ہیں۔ دال کو چاہے سوپ بنا کر یا سالن بنا کر، جس طرح بھی چاہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رس دار پھل اور سبزیاں : آخر میں رس دار پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بہت مفید ہے کیونکہ یہ وٹامن سی سے بھر پور ہوتے ہیں۔ سیب، لیموں، ٹماٹر، کینو، مالٹا، موسمبی وغیرہ یہ سب جسم میں آئرن یعنی خون کی کمی کو جلد سے جلد دور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انجیر اور کھجور میں بھی فولاد کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

ان سب قدرتی غذاؤں کے باقاعدہ استعمال سے آپ انیمیا کی بیماری کو وقوع پذیر ہونے سے روک سکتے ہیں بلکہ اس مرض کے لاحق ہو جانے کے بعد بھی انشا اللہ اس سے جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔